بناسکاٹھا،4؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)جمعہ کو کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بناسکانٹھا کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ملنے پہنچے۔راہل کے سیلاب دورے کے دوران ان کے قافلے پر پتھراؤ بھی ہوا۔مظاہرے کے دوران لوگوں نے مودی مودی کے نعرے بھی لگائے۔پتھراؤ کی وجہ سے راہل گاندھی کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔اچانک ہوئے اس حملے میں راہل گاندھی بال بال بچے انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔اس سے پہلے راہل جب دھانیرا کے لال چوک میں اپنی تقریر کرنے پہنچے تو کچھ لوگوں نے راہل گاندھی کو سیاہ پرچم دکھائے۔راہل نے سیاہ پرچم سے پولیس کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا۔تازہ معلومات کے مطابق راہل گاندھی کے قافلے پر حملے میں کانگریسی لیڈر بھرت سنگھ سولنکی زخمی ہو گئے ہیں۔ادھر بناسکانٹھا کے ایس پی کے مطابق جس شخص نے راہل گاندھی کی گاڑی پر پتھر پھینکا تھا اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔سیاہ جھنڈوں اور خلاف میں لگے نعروں کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میں کل آسام گیا تھا، آج راجستھان اور اب گجرات آیا ہوں،میں دکھ سمجھتا ہوں،لہذا آج آپ کے درمیان ہوں،اگرچہ آج نہ تو مرکز میں ہماری حکومت ہے اور نہ ہی گجرات میں لیکن، میں اور میرے کارکن ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں،دو چار سیاہ پرچم دکھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔راہل گاندھی گجرات میں سب سے زیادہ سیلاب سے متاثرہ دھانیرا بھی گئے، جہاں وہ ایسے خاندان والوں سے بھی ملے جنہوں نے ان کے اپنوں کو سیلاب میں کھو دیا ہے۔راہل نے ان لوگوں سے مل کر انہیں حکومت کی جانب سے تمام طرح کی مدد کو جلد از جلد مل پائے اس بات کا بھروسہ بھی دلایا۔صاف ہے کہ سیلاب کے حالات کے درمیان کانگریس راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر اپنے سب سے سینئر ساتھی احمد پٹیل کو بچانے میں لگی ہے۔ویسے میں کانگریس کے بناسکانٹھا ضلع کی 9سیٹ میں سے 6سیٹ پر قابض کانگریس کے ممبر اسمبلی بنگلور میں ہیں۔